ابنا: اس ملاقات کے بعد ايک مشترکہ پريس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ صالحي نے کہا کہ ايران نے شام کے بحران کے حل کے تعلق سے اقوام متحدہ کے نمائندے اور اسي طرح مصر، سعودي عرب اور ترکي کو اپني تحريري اور غير رسمي تجاويز پيش کردي ہيں - علي اکبرصالحي نے کہاکہ اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے اجلاس کے دوران چارجانبہ کميٹي کي ميٹنگ ميں مصري صدر کي طرف سے يہ بات سامنے آئي تھي کہ شام کے بحران کے حل سے متعلق ايران کي تجاويز اور اس کے خيالات تحريري طور پر مصر سعودي عرب ترکي اور اقوام متحدہ کے نمائندے کو دي جائيں -وزير خارجہ نے کہاکہ ہم نے اپني تجاويز تحريري اور غير رسمي شکل ميں پيش کردي ہيں - ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہيں اخضر ابراہيمي کہ جن کے پاس عالمي بحرانوں کو حل کرنے کا تجربہ ہے علاقے اور شام کے بحران ميں موثر ملکوں کے تعاون سے شام کا بحران پرامن طريقے سے حل کرنے ميں کامياب ہوجائيں گے - وزير خارجہ نے کہاکہ ہمارا مطالبہ يہ ہے کہ ہر اقدام سے پہلے شام ميں جنگ و خونريزي بند ہو ليکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہرروز شام ميں بڑي تعداد ميں بے گناہ عام شہري مارے جاتے ہيں –انہوں نے کہا کہ يہ صورتحال نہ تو شام کے حق ميں ہے اور نہ ہي علاقائي اور عالمي ملکوں کے حق ميں ہے - شام کے امور ميں اقوام متحدہ کے خصوصي نمائندے اخضر ابراہيمي نے بھي اس پريس کانفرنس ميں کہا کہ ايران کے وزير خارجہ کے ساتھ ان کي بات چيت تعميري رہي ہے - انہوں نے اميد ظاہر کي کہ ايران نے شام کے بحران کے حل کے لئے جو تجاويز پيش کي ہيں ان سے ايک جامع منصوبے کے تحت شام کے بحران کو حل اور شام ميں حقيقي اصلاحات کو روبہ عمل لانے ميں مدد ملے گي -اقوام متحدہ کے نمائندے نے ساتھ ہي ان سبھي ملکوں سے جو شام ميں مسلح گروہوں کو ہتھيار فراہم کرکے شام کي صورتحال کو مزيد بحراني بنارہے ہيں کہاکہ وہ شام ميں مسلح گروہوں کو ہتھيار دينا بند کرديں –.......
/169